مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ انقلابِ اسلامی کے بین الاقوامی امور میں مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے امریکی وزیرِ خارجہ کے ایران مخالف حالیہ بیانات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ مارکو روبیو کی حالیہ تقریر میں ایک واضح تضاد موجود ہے۔ قدیم یونان میں ’’آخری فرد تک‘‘ ڈٹے رہنے کو سراہا جاتا ہے، لیکن ایرانی عظیم قوم کی استقامت کو ’’موت کے فرقے‘‘ کا نام دے کر اس کی تحقیر کی جاتی ہے۔ اپنی مزاحمت کی تعریف اور دوسروں کی مزاحمت کی توہین کرنا تہذیب نہیں، بلکہ تسلط قائم کرنے کے لیے فلسفے بنانا ہے۔
بین الاقوامی امور میں رہبر انقلاب کے مشیر نے مزید لکھا ہے کہ جناب روبیو! آپ کا مسئلہ انقلابِ اسلامی نہیں، بلکہ طاقتور اور خودمختار ایران کی تہذیب ہے۔ جن لوگوں نے ہیروشیما، ویتنام، عراق اور افغانستان کے سانحات برپا کیے، انہیں اخلاقیات کا درس دینے کا کوئی حق نہیں!
واضح رہے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو ایران کی تاریخ کے خلاف بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ہخامنشیوں نے 480 قبل از میلاد یونان پر حملہ کیا اور وہاں لوٹ مار کی؛ ایرانیوں کی جڑیں انہی لٹیروں سے ملتی ہیں!
آپ کا تبصرہ